پروفیومو جنسی سکینڈل (۱۹۶۱)پاکستان کیلۓ ایک سبق احمد جواد

282
.

‎ پروفیومو جنسی سکینڈل (۱۹۶۱)پاکستان کیلۓ ایک سبق

احمد جواد

‎ پروفیومو معاشقے پر مبنی ایک جنسی سکینڈل نےساٹھ کی دہائ میں برطانوی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اخبار نیو یارک ٹائمز کےمطابق اس سکینڈل کا مرکزی کردار کرسٹین کیلر نامی ایک کیبرے ڈانسر اور ماڈل تھی جس کےاس وقت کے دفاع کے نائب وزیرجان پروفیومو کے ساتھ عشقیہ تعلقات تھے۔پروفیومو کے بخت کا ستارہ اس دور کے وزیر اعظم ہیرالڈ میکملن کے دور میں عروج پر تھا۔ دسمبر 2017ء میں 75کی عمر میں وفات پانے والی کرسٹین کا اُن دنوں بیک وقت برطانیہ میں روسی سفارت خانے میں بطورفوجی اتاشی خدمات انجام دینے والے کمانڈر یاوجینی آئیوانوف کے ساتھ بھی معاشقہ چل رہا تھا۔

‎اسٹیفن وارڈ ایک سیکس مالشیہ تھا اور اُسی نے کرسٹین کو پروفیومو سے متعارف کرایا تھا۔اسٹیفن سوسائٹی کے اونچے لوگوں سے تعلقات استوار کرنے اور پر تعیش پارٹیاں دینے کے لئے بہت مشہور تھا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق سٹیفن پر عورتوں کی دلالی کا الزام لگایا جاتا تھا اور اس وقت کے اخبارات کے مطابق اس نے جسم فروشی کا اڈہ بنا رکھا تھا۔اخبار سن کا کہنا ہے کہ وارڈ پر جسم فروشی سے ناجائز آمدنی کمانے کا مقدمہ بنا اورفیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہی اُس نے خود کشی کر لی۔

‎کرسٹین جیسی ہی ایک عورت نے جنرل رانی کے روپ میں جنرل یحییٰ کی حکومت کا بیڑا غرق کر دیا تھا۔دوسری بار یہ مشرف کا دور تھا جب اس طرح کی اخلاق باختہ عورتیں حکومتی ایوانوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ان میں سے کچھ خواتین اعلیٰ عہدوں تک پہنچیں اور آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود ہیں۔

‎اسٹیفن جیسے کردار آج بھی ہماری اشرافیہ کی صفوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرتے ہیں اور دلال کہلاتے ہیں جنہیں پنجابی زبان میں —- کہا جاتا ہے. جو جذبات کا اظہار پنجابی زبان میں ہوتا ہے وہ مزہ کسی اور زبان میں نہیں۔ پاکستان میں اس قماش کے لوگوں کا مستقبل بڑا روشن ہے۔ یہ لوگ ہر سیاسی پارٹی، افسر شاہی، انتظامیہ، کاروباری دنیا اور میڈیا میں موجود ہیں اور ان کا اقتدار میں آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے. اس کیلۓ بے غیرتی کے جراثیم کا ہونا ضروری ہے.اس طرح کے لوگ ملک کی انتہائی اعلیٰ سطح پر فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس طرح کے کردار کسی زمانے میں بڑی منحوس شکلوں کے منہ میں پان چباتے نظر آتے تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ دلال ملک کی اشرافیہ کا حصہ بن گئے۔ان کے حُلیے بڑے نفیس ہو گئے. یہ پرکشش پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں جس میں طاقت ور لوگوں کی مخصوص طریقے سے خاطر کی جاتی ہے. اگلے دن سے وہ طاقت ور لوگ ان دلالوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔طاقت کا نشہ دلالوں کے لوازمات کے ساتھ مل کر ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے کہ فیصلے باندیاں بن جاتے ہیں، ملک کا وقار، سالمیت، وسائل سب داؤ پر لگ جاتے ہیں۔

‎ہمارے معاشرے میں بد قسمتی سے اس طرح کے کردار نہ توقانون کی گرفت میں آتے ہیں، نہ ان کو بے نقاب کیا جاتا ہے، نہ ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔اس کے برعکس ان لوگوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے، ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے، ان کا تحفظ کیا جاتا ہے اور ان کو بار بار استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ طاقتور ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ہر جگہ اختیارات کی ڈوریاں ہلاتے نظر آتے ہیں۔

‎اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو ایک دن ہمارے معاشرے کو بھی اسی طرح ڈٹ جانا ہوگا جس طرح 1961 ء میں برطانوی معاشرہ اس قماش کےلوگوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا۔دلال اسٹیفن معاشرے کو منہ نہیں دکھا سکتا تھا اس لئے اُس نے خود کشی کر لی۔برطانوی میڈیا نے ان غیر اخلاقی معاشقوں کو بے نقاب کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا حتیٰ کہ اس نے شہزادہ فلپ تک کو معاف نہیں کیا۔اس کے برعکس ہمارے میڈیا میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اس طرح کے دلالوں اور جسم فروشوں کو بےنقاب کر سکے۔بد قماش لوگ میڈیا کا بھی جزو بن چکے ہیں اور میڈیا ان کے چنگل میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔

‎ہمارے بھولے عوام کسی کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کے زعم میں اس طرح کے معاشوں کو بے نقاب کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔اگر ہم ان معاملات کو بے نقاب کرکے قانون کےشکنجے میں نہیں لاتے تو ہم اس لعنت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کر سکیں گے جس نے ہماری معاشرتی بنیادوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیا ہے۔

‎کسی برائی پر قابو پانے اور اس کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے سب سے پہلے برائی کی نشاندہی کی جائے۔اوّل تو ہمارے بھولے عوام میں اتنی سکت نہیں کہ وہ ایسے بدقماش لوگوں کا احتساب کر سکیں اور اُوپر سے یہ بدقماش لوگ ہر جگہ …
[8:50 PM, 4/2/2021] Sir Jawad Sb.: مدد کے طالب ہوتے ہیں۔ایک نہ ایک دن تو ہمیں احساس ہوگا کہ اگر ہم ایک با وقار قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں ان دلالوں اور جسم فروشوں کو اپنی
‎صفوں سے نکالنا ہوگا۔

یہ معاشرتی مسلۂ ہے کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں، انشاللہ عمران خان اپنے کردار سے اپنی ٹیم میں بھی اخلاقی روایات کی ترویج کرے گا. اقتدار کے ایوانوں کو دلالوں سے پاک کرنا ہو گا.

زنجیروں میں جکڑے یہودی جرنیل کو جب صلاح الدین کے سامنے لایا گیا تو اُس نے کچھ تاریخی الفاظ ادا کیے جس کی گونج آج بھی سنائ دے رہی ہے. اُمید ہے عمران خان اپنے کردار سے آج کا صلاح الدین ایوبی ثابت ہو گا اور ان الفاظ کی تہہ تک جاۓ گا۔

یہ ہیں وہ الفاظ جو ہمارے لئے چیلنج ہیں:

‎برمن نے کہا۔۔۔”

‎میری نظر ہمیشہ انسانی فطرت کی کمزریوں پر رہتی ہے، میں نے آپ کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کیا، میرا ماننا ہے کہ جب یہ کمزوریاں کسی لیڈر میں پیدا ہو جاتی ہیں یا پیدا کر دی جاتی ہیں تو شکست اُس کے ماتھے پر لکھ دی جاتی ہے، میں نے آپ کے یہاں جتنے بھی غدار پیدا کیے ہیں، اُن میں سب سے پہلے یہی کمزوریاں پیدا کیں۔ حکومت کرنے کا نشہ انسانوں کو لے ڈوبتا ہے۔

‎سلطانِ معظم!

‎آپ کی جاسوسی کا نظام نہایت ہی کارگر ہے، آپ صحیح وقت اور صحیح مقام پر ضرب لگاتے ہو، مگر میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف آپ کی زندگی تک ہے، ہم نے آپ کے یہاں جو بیج بو دیا ہے، وہ ضائع نہیں ہوگا۔
‎آپ چونکہ ایمان والے ہیں، اِس لیے آپ نے بے دین عناصر کو دبا لیا، لیکن ہم نے آپ کے امراء کے دلوں میں حکومت، دولت، لذت اور عورت کا نشہ بھر دیا ہے۔ آپ کے جانشین اِس نشے کو اتار نہیں سکیں گے اور میرے جانشین اِس نشے کو مزید تیز کرتے رہیں گے۔

‎سلطانِ معظم!

‎یہ جنگ جو ہم لڑ رہے ہیں، یہ میری اور آپ کی، یا ہمارے بادشاہوں کی اور آپ کی جنگ نہیں ہے، یہ تو کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے، جو ہمارے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی۔ اب ہم میدان جنگ میں نہیں لڑیں گے، ہم کوئی ملک فتح نہیں کریں گے، بلکہ ہم گھر بیٹھے معصوم اور بھولے بھالے مسلمانوں کے دل و دماغ کو فتح کریں گے۔
ہم مسلماانوں کے مذہبی عقائد کا محاصرہ کریں گے، ہماری لڑکیاں، ہماری دولت، ہماری تہذیب کی کشش جسے آپ بے حیائی کہتے ہیں، اسلام کی دیواروں میں شگاف ڈالے گی.