کالم

0
1888

تحریر: احمد جواد

ترک قوم بلا شبہ ایک عظیم قوم ہے جس کا ماضی اور تاریخ شاندار اور فتوحات سے سجا ہوا ہے۔ماضی میں کی عظیم سلطنتیں جن میں سلطنت عثمانیہ سب سے نمایاں ہے ترک قوم کی جرت بہادری اور ان کی صلاحیتوں کی عکاس ہے۔جنگ عظیم اول کے بعد سلطنت عثمانیہ کے اختتام کے بعد سے ترک قوم عالمی منظر نامے میں پس پردہ چلی گئی یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ غائب ہی ہو گئی لیکن عالمی امور میں دیگر مسلمان اقوام کی طرح ترک قوم کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہ گیا لیکن اب ایک بار پھر عالمی منظر نامے کے افق پر ترک قوم کا کا ستارہ جگمگانے کو ہے۔ترکی نے حالیہ کچھ برسوں میں نہ صرف اقتصادی اور معاشی میدان میں قابل زکر کامیابیاں حاصل کی ہیں بلکہ ترکی کی دفاعی صنعت بھی اس وقت دنیا کی صف اول کی دفاعی صنعتوں میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔حال ہی میں آذر با ئیجان اور آرمیینیا کے مابین ہونے والی جنگ میں آذر بائیجان کی فتح میں ترک ڈرونز نے کلیدی کردار ادا کیا۔ترکی کو دنیا کی ڈرون سپر پاور بھی کہا جا رہا ہے جو کہ یقینا تمام مسلمانوں کے لیے فخر کی ایک بات ہے،ترکی کی دفاعی ترقی اور اس حوالے سے نئی ایجادات  ہمیں سلطنت عثمانیہ کے سلطان سلیمان کی ان دیو ہیکل تو پ خانے کی یاد دلاتے ہیں جو کہ انھوں نے خصوصی طور پر اپنے دشمنوں پر عسکری برتری حاصل کرنے کے لیے تیار کروائیں تھیں۔آج کا ترکی ایک جدید ترکی ہے اور دنیا کے امیر ترین ملکوں کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔

دنیا کے بیس امیر ترین ممالک(جی ٹوئینٹی ) کا ممبر بھی ہے۔اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔  ترکی میں گیگا مال جیسے تقریباً 450بڑے مالز ہیں، (پاکستان کا سب سے بڑا مال)۔ پاکستان میں اس سائز کے تقریباً 12 بڑے مالز پورے ملک میں ہیں۔  اگرچہ ترکی میں موثر پبلک ٹرانسپورٹ ہے لیکن رات کے وقت مال کے باہر ٹیکسی کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں جو میں نے دنیا میں صرف دبئی میں دیکھی تھی۔  میں نے ترکی میں صارفین کی قابل خرید صلاحیت کا مشاہدہ کیا ہے۔  ترکی میں اوسط آمدنی 120,000پاکستانی روپے ہے۔  جی ڈی پی فی کس ہندوستان کے مقابلے میں  3 گنا زیادہ ہے۔2023ءکے بعد ترکی دنیا کے سب سے بڑے سمندری راستے باسفورس سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں سے شپنگ فیس وصول کرسکے گا۔استنبول کینال کا منصوبہ باسفورس سے جوڑا جاسکے گا۔  استنبول کینال انسانی ہاتھ سے بناء گئی دنیا کی سب سے بڑی سمندری گذرگاہ ہو گی۔ اس طرح باسفورس کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت اور تجارت دوگنا ہو جاتی ہے۔ ترکی کو ”یورپ کا چین” بھی کہا جاتا ہے۔  آپ ایسا کھانا کھا سکتے ہیں جو انگلینڈ میں10پاؤنڈ اور ترکی میں2پاؤنڈ ہے۔  ملکی ترک برانڈز کم قیمتوں اور اعلیٰ معیار کے ساتھ دنیا کے مشہور بین الاقوامی برانڈز سے زیادہ کامیاب ہیں۔  یہ ترکی کی عظیم لوکل صنعتی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔دور حاضر میں معاشی اور اقتصادی قوت ہی کسی بھی ملک کی حقیقی قوت کا مظہر ہوتی ہے دفاعی اوع فوجی قوت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن بہر حال آج کی دنیا میں معاشی قوت ہی سب سے موثر قوت مانی جاتی ہے،اور اگر پاکستان کے پیرائے میں بات کریں تو پاکستان کی اس وقت بڑی کمزوری پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز ہی ہیں۔ہمیں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت ہندوستان پاکستان کے مقابلے میں دنیا کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ملک بن چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہندوستان کی معیشت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔بہر حال ہم بات ترکی کی کررہے ہیں ترکی کی تیزی سے بڑھتی ہو ئی معاشی قوت نہ صرف مسلمان دنیا بلکہ پاکستان کے لیے بھی قابل تقلید ہے۔اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ ترکی ایک علاقائی طاقت سے بڑھ کر ایک عالمی قوت بننے کی جانب گامزن ہے،ترکی وسطی ایشیائی ممالک بالخصوص آذربائیجان کے ساتھ ایک مضبوط علاقائی بلاک تشکیل دیتا ہے۔

  افغانستان اور پاکستان تجارت اور تعاون کے لیے اس بلاک کا حصہ بننے کا امکان ہے۔لیبیا، عراق، شام اور یمن میں سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ان ممالک سے بڑی سرمایہ کاری ترکی میں منتقل ہوئی۔  ساتھ ہی، ترکی نے ان ممالک کے مہاجرین کی فراخدلی سے میزبانی کی اور یہاں تک کہ لاکھوں تارکین وطن کو شہریت بھی دی۔افریقی ممالک ترکی کے ساتھ تجارتی اور باہمی شراکت داری قائم کرنے کے لیے بہت مائل ہیں۔  ترکی انہیں متبادل ٹیکنالوجی اور مواقع فراہم کرتا ہے جو یورپ اور امریکہ ماضی میں پیش نہیں کر سکتے تھے۔سیاحت کے شعبے میں ترکی اپنی مثال آپ ہے۔قدرتی حسن اور نظاروں سے لبریز ملک ہے۔نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں کے لوگ بھی ترکی میں سیاحت کے لیے آنا پسند کرتے ہیں۔ماضی کی عظیم تاریخ کا امین ملک ترکی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ملک ہے۔  چین اور روس ترکی کو سب سے اہم اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ترکی اور ایران بڑے تجارتی شراکت دار ہیں اور انہوں نے ہمیشہ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ترکی اسرائیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے اور فلسطینی کاز کا سب سے مضبوط حامی بھی ہے۔

دور حاضر میں سافٹ پاور کسی بھی ملک کے عالمی سطح پر تشخص کو ابھارنے اور اس ملک میں سرمایہ کاری تک کے لیے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔امریکی ہا لی ووڈ انڈسٹری دنیا بھر میں امریکہ کا ایک چہرہ ہے جس کے ذریعے امریکہ اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر تک پہنچاتا ہے۔یہی کام بالی ووڈ کی فلمی صنعت ہندوستان کے لیے سر انجام دیتی ہے،دنیا میں کوئی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جانتا ہو یا نہ ہو شاہ رخ خان،سلمان خان اور عامر خان وغیرہ کو لوگ جانتے ہیں۔ترکی کی فلم اور ٹیلی وژن کی صنعت نے حالیہ عرصے کے دوران بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔اور دنیا بھر میں اپنا ایک مقام بنایا ہے،پاکستان سمیت دنیا بھر میں سلطنت عثمانیہ کے قیام کے حوالے سے بننے والی ٹی وی سیریز ارطغرل غازی نے دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے اور امریکی مقبول سیریز گیم آف تھرونز کے ساتھ مقبولیت کی دوڑ میں شامل رہی۔اس سیریز نے دنیا بھر میں ترک قوم اور مسلمانوں کا ایک مثبت امیج پیش کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔پاکستان ترکی کی ترقی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔  ترکی پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے لیے بہترین رول ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔  ترکی باقی دنیا کے لیے لبرل، اسلامی، ترقی پسند اور تیزی سے ترقی کرنے والے معاشرے کی بہترین مثال ہے۔

آجکل مغربی میڈیا ترکی کی معیشت کو نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ 2023ءمیں ختم ہونے کے بعد ترکی باسفورس پر اپنے فیصلے خود کر سکے گا۔مغرب ترکی پر اقتصادی دباو ڈال کر باسفورس کے معاہدے کو بڑھانا چاہتا ہے۔ اردوگان نے اس دباو کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ترکی میں ایک دفعہ پھر سلطنت عثمانیہ کی عظمت اُبھرتی نظر آتی ہے۔اگر ترکی مغرب کے دباو اور اُن کی مزاحمت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا تو ترک قوم ایک دفعہ پھر دنیا کی عظیم قوم بن کر راج کرے گی۔