کنول نصیر – ایک میراث جو محفوظ نہ کی جاسکی۔ احمد جواد

266
.

احمد جواد
Jawad.BTH@gmail.com

ٹیلی ویژن کے پہلے لمحے سے اگلے ۵۶ سال تک براڈ کاسٹینگ کے اعلی ترین سٹینڈرڈ کو قائم رکھتے ہوۓ ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے منسلک رہنا ایک ایسا ریکارڈ جو کبھی برابر نہیں کیا جا سکتا اور یہ ریکارڈ پاکستان میں خواتین میں صرف کنول نصیر کے پاس ہے۔ایک ایسی اینکر جو اگر اُردو میں بات کرتیں تو انگلش کا کوئ لفظ نہیں استعمال کرتیں، اور اسی طرح انگلش اور پنجابی میں بغیر کسی اور زبان کی آمیزش کے روانی اور کمال تلفظ کے ساتھ گفتگو کرنے والی پاکستان کی آخری خاتون اینکر ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو آج پاکستان میں ایک اور مثال دے دیں جو ان تینوں زبانوں کو یکساں روانی، تلفظ اور بغیر دوسری زبان کے الفاظ کی آمیزش کے میزبانی کر سکے، اور یہ مثال صرف خواتین اینکرز تک محدود نہیں بلکہ مرد اینکرز میں بھی ایسی اور مثال نہیں مل سکتی۔

کنول نصیر نے سکرین پر اپنے لباس، شخصیت اور چال ڈھال سے یہ بھی ثابت کیا کہ عورت جنس مخالف کے تخیل سے آزاد اپنی دلکشی کو وقار اور ایک منفرد سٹائل سے بھی سحر انگیز شخصیت میں ڈھال سکتی ہیں جہاں مرد عورت کیلۓ کششش کے ساتھ ساتھ عزت اور احترام کے جذبات محسوس کر سکے۔یہ وہ بات ہے جو شاید آج تک کوئ بیان نہ کر سکا ہو یا اگر بیان کر سکا ہو تو وہ اسے شوبزنس میں ڈھونڈ نہ پایا ہو۔ کنول نصیر اس انفرادیت کا ایک ناپید نمونہ تھیں۔ اب یہ کون سکھاۓگا، اور کیا کوئ سیکھنا بھی چاہے گا۔ ہم نے ایک منفرد انداز کھو دیا، اُسے سیکھے بغیر، اُسے اپناۓ بغیر، اُسے محفوظ کیۓ بغیر۔

ایک عورت کو سکرین پر آنے کیلۓ آج ایک ہی فارمولہ سکھایا جاتا ہے یا توقع کی جاتی ہے کہ وہ کیسے اپنے میک آپ اور لباس سے دیکھنے والے کو فریفتہ کر سکتی ہے، اور یہ سب کچھ ایک خوفناک ریس میں بدل جاتی ہے جہاں کامیابی کیلۓ لباس اور میک اپ کا ہیجان انگیز استعمال ہوتا ہے۔

‏woman of Substance کا استعارہ شوبزنس اور سکرین کیلۓ ہمیشہ کیلۓ کھو گیا، ہمیں نا تو اس کے ہونے کا احساس تھا اور شاید نا کھونے کا احساس ہوا۔ جب آپ کو کسی انسان کے قیمتی ہونے کا احساس نا ہو تو تو اُس کے کھونے کا کیسے ہو سکتا ہے۔ کنول نصیر کو صدر پرویز مشرف نے پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا تو صدر ممنون حسین نے لائف ٹائم ایچیومینٹ کا ایوارڈ کا ایوارڈ دیا اور اُن کے اعزاز میں تقریب کا بھی اہتمام کیا۔

کنول نصیر اور طارق عزیز اور اس طرح کے وہ معمار جنہوں نے ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی اور پہلے دن سے اگلے ۵۶ سال تک ٹیلی ویژن کے ساتھ منسلک رہے اور دنیا سے چلے گئے۔ اب شاید ان میں سے کوئ نہیں بچا۔

کنول نصیر کا ایک اور اعزاز یہ ہے کہ وہ ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھنے والی ٹیم کی کم عمر ترین ممبر تھیں۔کنول نصیر نے چونکہ ۱۶ سال کی عمر میں ٹیلی ویژن پر آغاز کیا اور سات سال کی عمر میں ریڈیو پر آغاز کیا اور مرتے دم تک ۵۶ سال تک دونوں اداروں سے منسلک رہیں، اسلئے ان کا لمبے عرصہ تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بیک وقت کام کرنے کا ریکارڈ شاید کبھی بھی نہ ٹوٹ سکے۔

کنول نصیر پاکستان کی پہلی خاتون اناونسر ، پہلی خاتون نیوز کاسٹر، پہلی خاتون میزبان، پہلی خاتون ڈرامہ آرٹسٹ، پہلی خاتون پرڈیوسر تھیں۔ کنول نصیر نے سولہ ممالک میں پاکستان کی ثقافتی نمائندگی اُسی وقار اور خوبصورتی سے کی جو اُن کی شخصیت کا ہمیشہ حصہ تھیں۔

اپنے آخری دنوں میں ڈرامہ نور کیلۓ ایک دادی کا کردار ادا کیا جو آجکل ایک ٹی وی چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔حسینہ معین اپنے اگلے ڈرامے کیلۓ ان کیلۓ ایک کردار لکھ رہی تھی جو دونوں کی ۱۲ گھنٹے کے فرق سے موت سے ہمیشہ کیلۓ ختم ہو گیا۔

پچھلے کئی سالوں سے کنول نصیر کا نام ستارہ امتیاز کیلۓ تجویز ھوتا تھا لیکن بعض اوقات کسی اور مستحق فنکار کا نام فائنل ہو جاتا تھا جو اس ایوارڈ کا واقعی مستحق ہوتا تھا لیکن تکلیف اُس وقت ہوتی تھی جب چند بے ہودہ فلموں میں چند بے ہودہ کردار کرنے والی کسی نازنین کو ستارہ امتیاز سے نواز دیا جاتا تھا۔ مرد کے معاشرے میں مرد کی بری نظر اور گندی سوچ اُس سے بڑے غلط فیصلے کروا دیتی ہے۔کاش ہمارے معاشرے میں کردار کو بھی کبھی اہمیت حاصل ہو سکے۔ستارہ امتیاز پاکستان کا عزت اور وقار کا نشان ہے، جب ہم اسے اپنے ہیجان انگیز تخیل میں بہہ کر اسے بے ہودگی کے حوالے کرتے ہیں تو پاکستان کی بے توقیر ی کرتے ہیں۔ستارہ امتیاز کو کوٹھوں پر تھرتھراتی جوان حسیناؤں کی تعریف میں نوٹوں کی بارش کا متبادل مت بنائیں۔

اگر ستارہ امتیاز کنول نصیر کو دیا جاتا ہے تو وہ اس ایوارڈ کا اعزاز ہو گا کہ وہ کنول نصیر کے نام کے ساتھ آۓ۔اگر اداکاری پر ہی ایوارڈ دینا ہے تو روحی بانو،اعظمی گیلانی،شبنم اور بہت سی اچھی اداکارائیں موجود ہیں۔

ہمارے شو بزنس میں سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والی اور سب سے زیادہ کامیابی سمیٹنے والی اداکارہ شبنم تھی جس نے کبھی فحاشی کا سہارا نہیں لیا بلکہ شو بزنس اور سکرین کی ضرورت کو پورا بھی کیا لیکن پروقار اور نفیس کردار کیے۔لیکن ستارہ امتیاز سے محروم رہی۔

جب تک بد کردار لوگ اعلی فیصلہ سازی میں شامل رہیں گے، اس ملک کی سلامتی اور وقار دونوں خطرے میں رہیں گے۔ بدکرداری کرپشن کا بیج ہے، جو تیزی سے ایک تنا ور درخت بنتا ہے. آج بدکرداری ایک فیشن ہے، ایک حقیقت ہے، جسے معاشرہ قبول کر چکا ہے. پیسے کی کرپشن اور بدکر داری ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کبھی جدا نہیں ہوتے،

عمران خان جس طرح اسلام کی طرف مائل ہوۓ ہیں اور اسلامی اقدار کی قدر کرتے ہیں، میں اُمید کرتا ہوں کہ اعلی کردار یقیناً ٹیم کے انتخاب میں ایک اہم معیار ثابت ہو گا۔

میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی،وزیر براۓ ثقافت اور ورثہ شفقت محمود اور وزیر براۓ انفارمیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ کنول نصیر جیسے تاریخی ورثے کا اگر اُن کی زندگی میں اعتراف نہیں ہو سکا تو اب بھی کیا جا سکتا ہے۔

کنول نصیر کو دفنانے کے بعد اُس وقت مجھے خوش گوار حیرانگی ہوئ جب چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے اور آئ ایس پی آر ریڈیو کی طرف سے پھولوں کے گلدستے قبر پر رکھے گئے۔میں سوچ میں پڑ گیا! کیا ریڈیو، پاکستان ٹیلی ویژن،منسٹری آف انفارمیشن میں بھی کسی کو ایسا خیال آیا جہاں کنول نصیر نے ۵۶ سال کام کیا. کامریڈشپ اداروں کی جڑوں کو مظبوط کرتی ہے۔چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل امجد نیازی نے بیگم صاحبہ کے ساتھ کنول نصیر کی بیٹی سے تعزیت کی. شفقت محمود صاحب نے بھی ہمیشہ شفقت فرمائ.

ہمارے ملک کے سول اداروں میں پچھلے ۵۰ سالوں میں جو سرکس کھیلا گیا، اُس میں اداروں کی روح تو عرصہ ہوا کھو چکی ہے، اب ایک بے جان جسم کو ادارہ کہا جا رہا ہے جسے ہر روز بے گورکفن رسوا کیا جاتا ہے، بے جان جسموں کو گدھ نوچ رہے ہیں ادارے تو پیدا اور پروان کیے جاتے ہیں پیار، جذبے،تخیل، کردار اور صلاحیت کی بھٹی میں.

کنول نصیر، حسینہ معین، شوکت علی کچھ خاموش پیغام چھوڑ گئے ہیں، جنھیں پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے، میں نے تو ان پیغاموں کو Decrypt کرنے کی ایک ادنی سی کوشش کی ہے، شاید کہ تیرے دل میں اُتر جاۓ میری بات.

احمد جواد
مرکزی سیکرٹری اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف