ہمیں سپر اسٹار کی نہیں سپر سسٹم کی ضرورت ہے، جہانگیر ترین

0
201

ایک اچھے نظام سے پہلے ہر ملک میں ایک ریفارمر، ایک لیڈر آتا ہے، ایک سپر سٹار آتا ہے، پاکستان 76 سال کے بعد ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور پاکستان کو آج ایک سپر سٹار کی ضرورت شاید پوری دنیا سے زیادہ ہے امریکہ میں جارج واشنگٹن آیا، جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا، ملائشیا میں مہاتیر ، سنگا پور میں لی کوان، ترکیہ میں اردوگان، بنگلہ دیش میں مجیب، جرمنی میں انجیلا مرکل، کیوبا میں کاسترو، روس میں پیوٹن، چین میں ماؤ اور شی جن پنگ، بھارت میں نہرو، اندرا گاندھی اور مودی، ایران میں خمینی، یو اے ای میں شیخ زید بن انہیان جیسے سپر سٹار آۓ اور پاکستان کو عمران خان مل گیا جس کی روشنی نے چوروں کی آنکھیں چندھیا دی جہانگیر ترین جیسے سیاستدان کو چلتی ٹرین چاہیے، چاہے وہ مشرف کی ہو، عمران خان کی ہو یا استحکام کے نام پر سپانسر ٹرین ہو؟ وہ کسی ایسی ٹرین کے مسافر نہیں بن سکتے جہاں جدوجہد ہو، حقوق کی جنگ ہو، وہ جوڑ توڑ کے شارٹ کٹ کو ہی زندگی سمجھتے ہیں، لیکن ایسی زندگی پر تف