Are we making our children safer and secure with our actions?


By Ahmad Jawad

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ” Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at

Accidents may happen to anyone, anywhere or even without own fault. But some accidents are result of poor grooming and training of children. If lessons of morals, discipline and values are given to  children more than money and luxuries, children will be safer and better.

Did we ever groom our children not to use mobile while driving or always fasten seatbelt or avoid high speeds or follow traffic rules or avoid alcohol, If answer is “NO”, accidents will be most likely to happen one day and it can be fatal. New Year car accident may just be one incident.

I have seen self made parents with wealth and success but the wealth and success once transferred to next generation without proper training and grooming, I have seen disasters.

One lesson is also to be polite with our employees, staff and servants. Their deficiency and faults should be addressed through the art of managment but not harshness and Insults. I walked into the office of one such youngster recently and found him abusing and threatening his servant with dire consequences. It was such an ugly situation that I prayed to Allah to forgive my such faults in the past and made a pledge I would never treat my servants and staff like this. May Allah forgive our grave mistakes. We must be polite to the weaker.

Hazrat Umar was busy in State Affairs when an ordinary and ignorant person interrupted him with his personal problem by holding his hand. Hazrat Umar pushed him with his stick and snubbed him by saying ” Don’t you know I am busy in state affairs”. The aggrieved person left embarrassed and humiliated. Hazrat Umar immediately realised his unintentional offence, he sent his son to bring back the complainant and begged apology from him. Hazrat Umar gave his stick to complainant to hit him back in the same manner he was hit. The complainant in a state of shock, refused to hit back Hazrat Umar. Hazrat Umar insisted that either complainant should hit him or forgive him. Hazrat Umar kept begging his forgiveness till he was granted by the complainant. This was the ruler who conquered Romans and Persian Empires.

Let’s learn and teach our children our own values and traditions.

کیا ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا رہے ہیں

احمد جواد

حادثہ کسی کے ساتھ ، کہیں بھی  یا اپنی غلطی کے بغیر بھی پیش آسکتا ہے۔مگر کچھ حادثات بچوں کی خراب پرورش اور غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اگر بچوں کوپیسے اور آسائش سے بڑھ کر اخلاقیات، نظم و ضبط اور اقدار سکھائی جائیں تو وہ زیادہ بہتر اور محفوظ رہیں گے۔

کیاکبھی ہم نے اپنے بچوں کو  یہ تربیت دی  ہےکہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال نہیں کرنا چاہئے، حفاظتی بیلٹ باندھنی چاہئیے، تیز رفتاری سے اجتناب کرنا چاہئے،ٹریفک اشاروں  پر عمل کرنا چاہئے اور الکوحل سے احتراز کرنا چاہئے۔اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کسی دن ضرور کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔نیو ائر پرہونے والے کار ایکسیڈنٹ بھی اسی طرح کا ایک حادثہ ہوتے ہیں۔

میں نے بہت سے سیلف میڈ والدین دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے دولت اور کامیابی حاصل کی۔مگر یہ دونوں چیزیں جب مناسب تعلیم و تربیت کے بغیر اگلی نسل کو منتقل ہوئیں اس کے بعد میں نے سانحات رونما ہوتے دیکھے۔

ایک سبق تو یہ ہے کہ اپنے ملازمین،ورکروں اور نوکروں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر اپنے انتظامی ہُنر کے ساتھ قابو پایا جائے مگردرشت لہجے اور بد سلوکی سے نہیں۔مجھے حال ہی میں ایک نوجوان کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا جہاں وہ اپنے ملازم کی تذلیل کر رہا تھا اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا تھا۔یہ اس قدرخراب صورت حال تھی کہ میں نے اپنے اس طرح کےماضی میں کئے گئے سلوک پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور عہد کیا کہ آئندہ اپنے سٹاف اور ملازمین سے اس طرح کا سلوک نہیں کروں گا۔ہمیں کمزوروں سے ہمیشہ نرمی سے پیش آنا چاہئے۔  

حضرت  عمرؓ  ریاستی امور میں مصروف تھے جب ایک عام سے ناواقف شخص نے اپنے ذاتی مسئلے کے حل کے لئے اصرار کرتے ہوئے ان کا ہاتھ تھام لیا۔حضرت عمرؓ نے اپنی چھڑی سے اُسے پیچھے دھکیلتے ہوئے درشتی سےکہا کہ دیکھتے نہیں کہ میں ریاستی کاموں میں مصروف ہوں۔سراسیمہ اور دل شکستہ سائل واپس پلٹ گیا۔حضرت عمرؓ کو فل الفور اپنی نا دانستہ زیادتی کا احساس ہوا۔آپ نے فوراًسائل کو اپنے بیٹے کے ذریعے بُلا بھیجا اور اس سے معافی کے خواستگار ہوئے۔انہوں نے سائل کو اپنی چھڑی دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی حضرت عمر کو چھڑی سے اُسی طرح مارے جیسے اُنہوں نے سائل کو مارا تھا۔حیران و پریشان سائل نے بدلے میں چھڑی مارنے سے تاملّ کیا تو حضرت  عمرؓ نے اصرار کیا کہ وہ یا تو بدلے میں چھڑی مارے یا انہیں معاف کر دے۔حضرت عمرؓ اس وقت تک معافی مانگتے رہے جب تک سائل نے انہیں معاف نہیں کر دیا۔یہ تھے حضرت عمرؓ وہ حکمران جنہوں نے رومی اور ایرانی  سلطنتوں کو تاراج کیا۔

آئے ہم بھی سیکھیں اور اپنے بچوں کو اپنی اقدار اور روایات کا سبق دیں۔