میں اُس وقت لیفٹیننٹ کمانڈر تھا

0
92

میں اُس وقت لیفٹیننٹ کمانڈر تھا، بارہ اکتوبر 1999 کی شام کو نیوی کے سنٹرل میس اسلام آباد میں نواز شریف کو وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کرنے کی خبر سنی توعوام کا ردعمل دیکھنے کیلئے فیض آباد، بلیو ایریا، پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور اطراف کا چکر لگایا، تو ایک انسان بھی احتجاج کرتا نظر نا آیا، البتہ کچھ آوارہ کتے نظر آۓ لیکن وہ بھی بلکل خاموش اور مطمعین، لوگ کھابے کھا رہے تھے، شاپنگ کر رہے تھے، کہیں پولیس یا فوج بھی نظر نا آئ، بلکہ کچھ لوگ مٹھائیاں بانٹتے نظر آۓ، پی ٹی وی سٹیشن کے سامنے تھوڑا سا ہجوم دیکھا تو قریب جا کر دیکھا تو گیٹ پر فوجی جوان کھڑے تھے، لوگ انہیں مبارکبادیں اور شاباشیں دے رہے تھے، وہ ایسے کھڑے تھے جیسے اسی کام کیلئے تربیت دی ہے، میں بھی شاباشی دینے والوں میں سے تھا،اگرچہ یہ ہماری نا سمجھی تھی اور احساس نہیں تھا کہ جہاں حکومتیں فوج بناتی اور گراتی ہے، وہاں ملک “ وڑ ” جاتے ہیں، 12 اکتوبر کو پورے ملک میں یہی صورتحال تھی، ایک بندہ بھی باہر نا نکلا، ہر طرف سناٹا تھا اصل میں جنھیں 12 اکتوبر کی عادت تھی، انھوں نے عمران خان کو بھی باقیوں کیطرح کدو کا حلوہ سمجھا تھا لیکن وہ تو آئرن مین نکلا، اب کدو کے حلوے اور آئرن مین کا فرق پتہ چل رہا ہے، اب تو آئرن مین کی نئی ٹیم ایونجرز بھی آ گئی ہے، صنم جاوید، شیر افضل مروت، طیبہ راجہ، گوہر خان، خدیجہ خان! مزے کی بات ہے کہ آئرن مین کی سیریز کبھی ختم نہیں ہوتی جبکہ کدو کا حلوہ فورا ختم، فورا ہضم، کدو کے حلوے کھانے والے کیا جانیں آئرن مین کی طاقت اور اسکے تسلسل کو