چین اور سنگاپور دنیا کے بہترین ماڈلز پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ احمد جواد ۔ مرمرکزی سیکریٹری اطلاعات تحریک انصاف

401
.

ا

Jang 7 July.

https://jang.com.pk/news/793028


Jawad.BTH@gmail.com

‎ میں نے پچھلے 15 سالوں میں سنگاپور اور چین کے معتدد دورے کیے اوردونوں مملک کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے چین کی کامیابی کے مختلف ادار پر کتابیں پڑھی اور میں نے سنگاپور کے لی کوان کو بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا کہ ان دونوں ممالک نے دنیا کے سب سے کامیاب ماڈل کس طرح تیار کیا

‎چارلی منگرکا شمار امریکہ کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے اور وہ وارن بوفے کے ساتھی ہیں۔ وہ مہاتیر کی عمر کے ہیں ، انہوں نے سنگاپور کو ایک بہترین نمونہ کہا اور انہوں نے چین کی تعریف کی جس نے سنگاپور کے لی کوآن سے سیکھااور تاریخ کے مختصر ترین عرصے میں کامیابی کی کہانی تخلیق کی۔
‎ چین اور سنگاپور پر میری بار بار توجہ اسی وجہ سے ہے۔

‎ سنگاپور دُنیا کے چند چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے

‎ اور

‎ چین دُنیا کے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے

‎ دونوں ایک مضبوط معاشی ، معاشرتی اور سیاسی نظام کے ذریعے ایسی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں جو پچھلے 40 سالوں سے غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔

‎ اکثر لوگ غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں ، جب وہ سنگاپور کواُس کے چھوٹے سائز کی وجہ سے ایک سیکھنے کے ماڈل کے طور پر نہیں لینا چاہتے۔سوچیں اگر چین سنگاپور سے سیکھ سکتا ہے۔ تو اس کی کوئ اچھی وجہ ہو گی۔ ہمیں سیکھنے کیلۓ سائز اور حجم نہیں دیکھنا ہوتا،بلکہ اس کے ڈیزائن اور افادیت کو دیکھنا ہوتاہے۔

چین کے ڈنگ شاوپنگ ۱۹۷۸ میں سنگا پور کے دورے میں فیصلہ کر چکے تھے کہ چین کو سنگا پور سے سیکھنا ہے۔۱۹۹۰ سے اب تک تقریباً ۵۰،۰۰۰ چینی آفیشلز سنگا پور کے اداروں میں ترقی حاصل کر چکے ہیں۔ سنگا پور چین کی پچھلے دو دہایوں سے ٹاپ درسگاہ ہے۔ لیکن اب چین جہاں پہنچ چکا ہے وہاں اُسے اب اُسے صرف اپنے آپ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین اب دنیا کا بہترین ماڈل ہے۔

‎ سنگاپور میں سود کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ ، ایک غیر ملکی کی حیثیت سے ، میں نے سالوں پہلے سنگاپور میں ایک ہاوسنگ قرض انہی شرائط پر لیا تھا۔ ہر سنگاپورین کے پاس اپنے مکان کے مالک بننے کے لئے حق اور رسائی حاصل ہے۔ تو ذرا تصور کریں کہ یہ بالکل اسلامی نظام سے ملتا جلتا ہے جہاں ہر شہری کے پاس ایک پناہ گاہ ہونی چاہئے اور اسے بھوکا نہیں سونا چاہئے۔ جرائم کی شرح تقریبا صفر ہے۔ خواندگی 100٪ ہے۔ 60 لاکھ آبادی والا ملک “مشرق بعید” کے خطے کی قیادت کر رہا ہے۔ دنیا کی ہر مستقبل کی ٹیکنالوجی کو سنگاپور میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ اسے مارکیٹ کیا جا سکے۔ کچھ سال پہلے ، میں سنگاپور کے دورے کے دوران ایک ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرسکتا تھا اور فوری طور پر شہر میں ایک الیکٹرک کار تک رسائی حاصل کرسکتا تھا اور یہ سب کچھ بغیر کسی ڈرائیورکے ساتھ ہوتا تھا۔

‎ اپلی کمیشن بار کوڈ کے ساتھ سائیکلوں کے کرایے لینے کا کام بھی اسی ملک میں شروع کیا گیا تھا اور بعد میں پوری دنیا میں استعمال ہوا تھا۔

‎ بدقسمتی سے ، ملائشیا سنگاپور کی طرح نہ بن سکا کیونکہ مہاتیر کے بعد ، یہ اکثر اسلامی ممالک کی طرح افراتفری اور بدعنوانی کا شکار ھوا۔ سنگاپور میں ، لی کوآن نے اس وقت تسلسل کو یقینی بنایا جب ان کے بعد ان کے بیٹے نے اس ملک کا اقتدار سنبھالا۔ تسلسل اور استحکام کی دو نسلوں نے سنگاپور کو سب سے کامیاب مثال کے طور پر بنایا ہے اور چین جیسی دوسری بڑی معیشت کو اس کی مثال پر چلنے کی ترغیب دی ہے۔

‎ چارلی منگر چین کی کامیابی کو نہ رکنے والا طوفان سمجھتے ہیں اور چینی نظام پر اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جو کہ صنعتی طاقت بننے یا 350 ملین لوگوں کو غربت سے نکالنے میں بے مثال ہے۔ چارلی منگرز کا ایک مشہور حوالہ

‎ “چین نے سنگاپور میں ایک چینی شخص سے سیکھا جو لی کوان تھا”

‎ بہت عرصہ پہلے ، میرا یقین تھا کہ ہمیں امریکی اور یورپی ماڈل کی مثالوں کو نہیں اپنانا نہیں چاہئے ، بجائے اس کے، ہمیں چینی اور سنگا پورین ماڈلز سے سیکھنا اور اپنانا چاہیے۔

‎ اگر مجھے سیکھنے کے لئے کسی تیسرے ملک کا ذکر کرنا پڑے تو وہ جاپان ہوگا۔ لی کوآن نے جاپان سے بہت کچھ سیکھا اور سنگاپور کی ابتدائی کامیابی جاپان سے بہت زیادہ متاثر ہوئی۔

‎ لہذا سیکھنے کا راستہ کچھ اس طرح سے ہے: سنگاپور نے جاپان سے سیکھا اور چین نے سنگاپور سے سیکھا اور اب دنیا چینی کامیابی کو قبول کررہی ہے۔

‎ جنوبی کوریا نے بھی جاپان سے سیکھا اور چوتھی کامیابی کی کہانی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

‎ چین ، جاپان ، جنوبی کوریا ، سنگاپور ، ہانگ کانگ، تائیوان، ملائشیا ، انڈونیشیا ، ویتنام ، تھائی لینڈ ، بنگلہ دیش ، ترکی ،متحدہ عرب امارات اور فلپائن یقینا ترقی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ترکی اور ساؤتھ کوریا دیکھتے ہی دیکھتے جی۲۰ میں شامل ہو گۓ۔

‎ اندرونی اور بیرونی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان ، بھارت ، افغانستان ، ایران پیچھے رہ گئے ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ یہ چار ممالک اپنی حکمت عملی ، سسٹم اور وژن پر نظر ثانی کریں۔ انڈیا میں صنعتی ترقی تو ہوئ لیکن وہ غربت اور نظام میں بہتری نہ لا سکی۔

ایوب خان اب تک پاکستان کی بہترین ترقی کی مثال ہے لیکن اسکا سیاسی تسلسل نہ بن سکا۔ایوب خان کے جانے کے بعد پاکستان آج تک دوبارہ اُس ترقی کی معراج کو چھو نہیں سکا۔ بھٹو کا تختہ اُلٹنے کے بعد پاکستان نے دوبارہ سیاسی استحکام نہیں دیکھا۔

یحیی خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف نے سیاسی یتیموں کو سیاست، زبان، مذہب، صوبائیت کی بنا پر اپنے اقتدار کو طول دینے کیلۓ استعمال کیا۔ نواز شریف، الطاف حسین، زرداری اور ہے سے برسات کے سیاسی مینڈک ان تین ڈکٹیٹرز کے تحفے ہیں۔
پچھلے پچاس سالوں کی ناکامی کے اصل ذمہ دار یہ تین ڈکٹیٹر ہیں۔ اس ملک کو دوبارہ کبھی کسی ڈکٹیٹر کے حوالے نہیں ھونا چاہیے۔

عمران خان پاکستان کیلۓ ایک سنہری موقع ہے۔ عمران خان ایماندار ہے اور اُس کا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط ہے جو سسٹم کی بڑی سرجری کیلۓ انتہائ موافق ہے۔
عوام کو عمران خان کا ساتھ دینا ہو گا۔پاکستان میں پہلی دفعہ کارٹل اور مافیا کے ساتھ ایک بڑی جنگ جاری ہے۔ مافیا اور کارٹل متحد ہیں لیکن عوام متحد نہیں۔ عمران خان کو پانچ سال ضرور مکمل کرنے چاہیۓ۔

سسٹم کی بڑی سرجری کے بغیر پاکستان ترقی کی دوڑ میں نہیں شامل ہو سکتا۔ مافیا اور کارٹل اپنی طاقت پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتے۔ ان سے طاقت چھینی جاتی ہے جیسے چین، سنگا پور، ترکی، جنوبی کوریا نے کیا۔ بنگلہ دیش ہمارا حصہ تھا، لیکن ہم سے جدا ہو کر ہم سے آگے نکل گیا۔ کیوں؟ ہم اس کا جواب تو جاننا چاہتے ہیں لیکن اس کے پیچھے
حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

ان زیادہ تر ممالک میں کڑا احتساب ، سیاسی استحکام، امن اور انصاف اُن کے سسٹم کی بنیاد بنا۔ پاکستان میں ان چاروں کا فقدان ہے۔ نیا پاکستان پرانے بیوروکریٹس کے بوسیدہ رٹے رٹاۓ اسباق سے ممکن نہیں ہے۔اس آلودہ نظام کے انجن کا تیل تبدیل کرنے سے نظام درست نہیں ہو گا۔ انجن تبدیل کرنا پڑے گا۔ جعلی ماہرین کو گھر بھجنا ھو گا۔ ورکشاپ بدلنی ہو گی۔ جو ماضی میں ہمارے مسائل کا حصہ رہے ہیں وہ آج حل کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔

تمام پبلک آفس ہولڈرز چاہے اُن کا تعلق سیاست دان، فوج ،عدلیہ، بیوروکریسی یا میڈیا یا بزنس کمیونٹی سے ہو، کا بلا امتیاز احتساب کیے بغیر پاکستان کی گاڑی بار بار ورکشاپ
میں جاتی رہے گی۔

پاکستان کی فالٹ لائنز آئی پی پیز، پی آئ اے، ایف بی آر ، پولیس، بیورکریسی،
پی ٹی وی،سٹیل مل، گندم، چینی، کھاد، آٹو انڈسٹری، آئل انڈسٹری، فارمیسی انڈسٹری سے ہوتی ہوئ سرحدوں تک جاتی ہیں۔ اربوں کمانے والوں کا مفاد سٹیٹس کو میں ہے۔ وہ نظام کی تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ نظام کی تبدیلی والوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔

اگر ایک دفعہ پھر آلودہ نظام جیت گیا تو ہم مصر کی طرح تبدیلی کو احرام مصر میں ڈہونڈتے رہ جائیں گے۔

معاشی استحکام سے پہلے امن کا ہونا ضروری ہے۔ چین،سنگا پور، ملائیشیا، ترکی، یورپ، جنوبی کوریا، جرمنی، جاپان ، متحدہ عرب امارات، تائیوان ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ان سب میں ایک چیز مشترکہ ہے۔ ان سب ممالک نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کوئ جنگ نہیں کی۔ بنگلہ دیش بننے کے ۴۸ سالوں میں انہوں نے کوئ جنگ نہیں دیکھی۔چین نے ۱۹۶۴ کے بعد کوئ جنگ نہیں کی۔ ان تمام ممالک کے سرحدی اور سیاسی تنازعات ہیں لیکن ان سب ممالک نے اپنے تنازعات کو جنگوں میں نہیں بدلنے نہیں دیا۔

پاکستان کی چار جنگیں کشمیر کا مسلۂ حل نہیں کر سکیں اور آئندہ بھی کوئ جنگ کشمیر کا مسلۂ حل نہیں کر سکتی۔ کشمیر کا مسلۂ فلسطین کی طرح عالمی طاقتوں کیلۓ اہم نہیں رہا۔ ھماری معاشی کمزوری اور سیاسی عدم استحکام نے کشمیر کو نقصان پہنچایا۔ کشمیر پر ہماری آپشنز بہت محدود ہیں۔ صرف اور صرف معاشی طور پر مضبوط پاکستان کشمیر کیلۓ کچھ کر سکتا ہے۔

پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ سے معاشی اسٹیٹ بننا ہو گا۔ فوج کی تعداد کو کم کرکے بہتر ڈیفنس ٹیکنالوجی اور اعلی فوجی معیار پر انحصار کرنا ہوگا۔ ایٹم بم ہمارا دفاع ہے۔