ملالہ یوسفزئی : کی اصل حقیقت

377

By Khalid Qayyum Tanoli


ملالہ یوسف زئی اور اس کے باپ ضیا الدین کے حوالے سےبہت کچھ ایسا ہے جو آپ کو ضرور جاننا چاہئے ۔۔

ملالہ کی (نام نہاد) کتاب ” I am Malala” دراصل کرسٹینا لیمب نامی جرنلسٹ نےلکھی جس کی اصل وجۂ شہرت پاکستان اور پاک فوج کی مخالفت ہے اور اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی ہے۔

صرف چند باتوں کی نشان دہی سے آپ بخوبی جان سکتے ہیں کہ ایک پندرہ یا سولہ برس کی بچی اتنا منظم اور مربوط فساد کا حامل پروپیگنڈہ ہر گز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کا اسلوب تحریر اتنا پختہ ہو سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک تجربہ کار شرپسند اور مفسد ذہن ہے اور باقاعدہ سوچی سمجھی سازش ۔جس پر خود ملالہ یقین رکھتی ہے۔ اس کتاب میں چند مثالیں ملاحظہ ہوں 

سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب ” شیطانی آیات” کے بارے میں لکھتی ہے کہ ” اس کے والد کے خیال میں وہ آزادی اظہار ہے

اس کتاب میں قرآن مجید پر تنقید کی گئی اور اس میں خواتین سے متعلق موجود قوانین سے وہ متفق نہیں۔ مثلاً وہ ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کو غلط کہتی ہےجو کہ قرآن کا حکم ہے۔ اسی طرح وہ زنا سے متعلق 4 لوگوں کی گواہی کو بھی درست نہیں سمجھتی۔بحوالہ : صفحہ نمبر 24 اور صفحہ نمبر 79۔

اسی کتاب کے صفحہ نمبر 28 پر وہ اسلام کا سیکولرازم اور لبرل ازم سے موازنہ کرتے ہوئے اسلام کو ملیٹنٹ ( دہشت گرد ) قرار دیتی ہے ( نعوذ بااللہ )۔

بدنام زمانہ شاتمۂ رسول تسلیمہ نسرین ملالہ کو اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن قرار دیتی ہے اور دونوں کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ تسلیمہ نسرین کو بنگلہ دیشی حکومت نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف گستاخانہ کتاب لکھنے پرملک بدر کر رکھا ہے اور یہ ملعونہ آج کل انڈیا میں سیاسی پناہ لیے بیٹھی ہے۔

پوری کتاب میں اللہ کے لیے لفظ ” گاڈ ” استعمال کیا گیا ہے اور حضور ﷺ کا صرف نام لکھا ہے جیسا کہ غیر مسلم لکھتے ہیں۔ پوری کتاب میں کہیں بھی لفظ محمد(ﷺ )کے ساتھ درود یا “Peace be upon Him” نہیں لکھا گیا۔

ملالہ یوسف زئی گستاخیٔ رسول پر سزائے موت کے قانون کے خلاف ہے۔

کتاب کے مطابق پاکستان رات کے اندھیرے میں بنا تھا۔ یہ الفاظ پڑھ کر پہلا تاثر یہی ملتا ہے گویا تاریکی میں کوئی گناہ یا جرم ہوا تھا۔

کتاب کے مطابق اس کےباپ ضیاءالدین یوسف زئی نے پاکستان کی یوم آزادی کے موقعے پر یعنی 14 اگست والے دن کالی ربن باندھی اور وہ گرفتار ہوا اور جرمانہ بھی۔ یہ سراسر چھوٹ ہے۔

ملالہ پاکستان کو سٹیٹ (ریاست) نہیں بلکہ طنزا رئیل سٹیٹ قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ بہتر ہوتا کہ ہم انڈیا کا حصہ ہوتے

ملالہ کہتی ہے کہ پہلے میں سواتی ہوں پھر پشتون اور پھر پاکستانی۔ اپنے مسلمان ہونے کا ذکر وہ آخر میں بھی نہیں کرتی جبکہ عام طور پر ہم اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ پہلے ہم مسلمان ہیں پھر پاکستانی پھر پشتون، پنجابی، سندھی یا بلوچی وغیرہ۔

ملالہ دعوی کرتی ہے کہ پاکستان انڈیا سے تینوں جنگیں ہارا ہے۔

ضیاالدین کا کہنا ہے کہ اگر مجھے کسی ملک کا شہری بننے کا ارمان ہے تو وہ افغانستان ہے۔

( ضیاالدین یوسف زئی کو نواز شریف نے پاکستان ھائی کمیشن کا اتاشی مقرر کر رکھا ہے )

پاکستان پر تنقید کے ضمن میں کتاب میں لکھا ہے کہ “احمدی خود کو مسلم کہتے ہیں لیکن پاکستان نے ان کو غیر مسلم قرار دے رکھا ہے۔ صفحہ نمبر 72

ملالہ اور اس کا باپ شکیل آفریدی کی حمایت کرتے ہیں جو حکومت پاکستان کے مطابق غدار ہے اور اس وقت سزا بھگت رہا ہے۔

ملالہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور پاک فوج پر بھی سخت تنقید کرتی ہے۔

ملالہ کا باپ ضیاالدین‛ پاک فوج کو ” ڈرٹی پیپل ” ( گندے لوگ ) قرار دیتا ہے۔

ملالہ کہتی ہے کہ وہ پاک فوج پر شرمندگی محسوس کرتی ہے۔

ملالہ کی تقریر اس کا باپ لکھتا تھا جبکہ بلاگ عبد الحئی کاکڑ نامی بی بی سی کا نمائندہ لکھتا تھا جس کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے۔

ایڈم بی ایلک نامی ایک سی آئی اے ایجنٹ کئی مہینوں تک بھیس بدل کر ملالہ کے گھر رہا اور اس کے باپ کے ساتھ مل کر ملالہ کی برین واشنگ کی تاکہ اس کو آنے والے وقت کے لیے تیار کیا جا سکے ( یہ خبر بھی درست ہے کہ اس نے بعد میں ملالہ سے نوبل انعام میں اپنا حصہ بھی مانگا تھا 

ملالہ کے مطابق اس کا باپ اپنے نجی سکول اور گھر کے لیے بجلی چوری کرتا تھا جس کے باعث وہ ایک بار پکڑا گیا اور اس کو جرمانہ بھی ہوا۔ یہ بالکل درست ہے۔

ملالہ کی پسندیدہ ترین شخصیت باراک اوبامہ ہیں۔ ( ہوسکتا ہے اب ڈونلڈ ٹرمپ ہوں)

ملالہ کے مطابق وہ بھیس بدل کر یعنی یونیفارم پہنے بغیر سکول جاتی تھی کیونکہ طالبان سے خطرہ تھا۔ جب کہ سیدو شریف میں جہاں وہ رہتی تھی وہاں کوئی سکول بند نہیں ہوا تھا۔ طالبان یہ پابندی صرف مٹہ کے علاقے میں لگا سکے تھے جہاں کچھ سکول بند کیے گئے تھے۔ زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت کا ملالہ ذکر کرتی ہے اس وقت وہ اپنے باپ ہی کے سکول میں زیر تعلیم تھی جو انہی کے گھر کے نچلے پورشن میں تھا۔ تو کیا وہ اوپر والے پورشن سے نیچے آنے کے لیے بھیس بدلتی تھی ؟؟

ملالہ فنڈ کے لیے 68 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو تقریباً پاکستان کے کل قرضے کے برابر ہیں۔ یہ فنڈز فراہم کرنے والے وہ ہیں جو پوری دنیا میں سیکولرازم کو بذریعہ تعلیم پروموٹ کرنا چاہتے ہیں۔

ملالہ انڈیا کی بھی کافی پسندیدہ ہے اور وہاں اس پر ایک فلم بھی بن رہی ہے جو پاکستان دشمنی پر مبنی ہوگی۔

اب ان سیکولر اور مغربی منافقین کا عملی تضاد ملاحظہ ہو

 
افشاں‛ آرمی پبلک سکول میں بچوں کو بچانے کے لیےکر دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ گئی جنہوں نے اس پر کیمیکل ڈال کر زندہ جلا دیا۔ مصباح بچوں کو بچانے کے لیے جلتی ہوئی وین کے اندر گھس گئی اور خود بھی زندہ جل گئیں۔ اعتزاز احسن ایک خود کش حملہ آور سے لپٹ گیا اور دھماکے میں اڑ گیا تاکہ سکول کے بچوں کو بچا سکے۔ ملالہ ان تینوں کی پاؤں کی خاک بھی نہیں۔ لیکن سیکولر دنیا میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں۔۔۔ کیوں ؟؟

یہ ہیں وہ چند حقائق جو مشتے ازخروارے کے تحت آپ کی بصیرت اور بصارت کے لیے پیش کیے گئے۔ فیصلہ آپ خود کیجیے۔

Facebook Comments